پاکستان میں بچہ گود لینے کا مکمل طریقہ کار، قوانین اور ضروری دستاویزات
سیمپلز کے ساتھ چائلڈ ایڈاپشن کی مکمل وضاحت
(بچے کو گود لینا) ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں ایک فرد یا جوڑا کسی ایسے بچے کی پرورش اور کفالت کی ذمہ داری قبول کرتا ہے جو ان کی حیاتیاتی اولاد نہیں ہوتا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق گود لینے کا مقصد بچے کی کفالت اور پرورش ہے، لیکن اس کی حیاتیاتی شناخت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ (سورۃ الاحزاب، آیات 4 اور 5)”اگرچہ ایک بچہ گود لیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے حیاتیاتی والدین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔“ یعنی بچے کا نسب تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اسے اصل والدین کے نام سے ہی پکارا جائے گا۔ اگربچے کا حیاتیاتی باپ کا نام معلوم نہیں ہے تو اسلامی تعلیمات کے مطابق بچے کو بھائی یا دوست سمجھنا چاہیے۔ گود لیئے گئے بچے کو(گود لیا ہوا)یا ”لے پالک“ بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں چائلڈ ایڈاپشن کو قانونی حیثیت دی گئی ہے تاکہ یتیم بے سہارا بچوں کو ایک محفوظ اور پیار بھرا ماحول حاصل ہوسکے۔ پاکستان میں بھی یہ عمل موجود ہے لیکن یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اسلامی قوانین، ملکی ضوابط، اور اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں بچہ گود لینے کے عمل میں متعدد قوانین شامل ہیں جیسا کہ۔
٭گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ، 1870
٭معاہدہ ایکٹ، 1972
٭نادرا آرڈیننس، 2000
بچہ گود لینے کی چاراقسام
بچہ گود لینے کیلئے یہاں پر چار مختلف اقسام بیان کی جارہے ہیں ان طریقوں کو سمجھتے ہوئے بچہ گود لینے والے والدین اپنی ضرورت کے مطابق بچہ گود لے سکتے ہیں۔
1.قانونی ایڈاپشن
جس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں اور بچہ سرکاری دستاویزات میں گود لینے والے والدین کے نام سے رجسٹر ہوتا ہے۔.2رضاکارانہ گود لینا
اس صورت میں، بچے کے حیاتیاتی والدین اپنی مرضی سے بچے کو کسی دوسرے فرد یا جوڑے کے سپرد کرتے ہیں تاکہ وہ اس کی پرورش کریں۔
3.کفالت/ (Guardianship)
اسلامی قوانین کے مطابق بچہ حقیقی والدین کے نام سے ہی جانا جاتا ہے، مگر گود لینے والے افراد اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔
4. غیر رسمی ایڈاپشن
جہاں بچہ گود تو لیا جاتا ہے مگر کوئی باضابطہ قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔
کون سے ادارے بچہ گود لینے کے عمل میں معاون و مددگار ہوتے ہیں؟
1۔سول /فیملی کورٹس:۔گود لینے کی قانونی کارروائی کے لیے درخواست دائر کی جاتی ہے، اور سول/ فیملی کورٹس بچے کے گود لینے کے تمام قانونی مراحل کی توثیق کرتی ہیں اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ دیتی ہیں۔
2۔سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ: ۔ یہ سرکاری ادارہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے اور گود لینے کے عمل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
3۔غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs):۔متعدد NGOs، جیسے ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا ویلفیئر اور صارم برنی ٹرسٹ، اور کئی مختلف فلاحی ادارے جویتیم اور لاوارث بچوں کی کفالت اور گود لینے کے عمل میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
4۔ نادرا:۔ نادرا گود لیے گئے بچے کی شناختی دستاویزات تیار کرتا ہے اور اس کے قومی شناختی ریکارڈ میں تبدیلیاں کرتا ہے۔
بچہ گود لینے کے لیے ضروری شرائط اور مطلوبہ دستاویزات
ضروری شرائط:۔(1)گود لینے والے شخص کی عمر کم از کم 25 سال ہونی چاہیے۔(2)شادی شدہ جوڑوں کے لیے مستحکم ازدواجی زندگی ضروری ہوتی ہے۔(3)مالی طور پرمستحکم ہونا ضروری ہے تاکہ بچے کی اچھی پرورش کی جا سکے۔(4)بچے کی فلاح و بہبود کے لیے والدین کا اچھے اخلاق اور سماجی ریکارڈ ہونا ضروری ہے۔(5)گود لینے والے شخص کو مجرمانہ ریکارڈ سے پاک ہونا چاہیے۔(6)نادرا میں رجسٹریشن اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مطلوبہ دستاویزات:۔(1) قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپی۔(2) نکاح نامہ کی کاپی (اگر شادی شدہ جوڑا ہو)۔(3) مالی حیثیت کی تصدیق (بینک اسٹیٹمنٹ، تنخواہ کی تفصیلات)۔(4) پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ۔(5) میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ۔(6) عدالت میں گارڈین شپ کی درخواست۔
گارڈین شپ حاصل کرنے کے لیے سول/ فیملی کورٹ میں درخواست دی جاتی ہے۔ عدالت گود لینے والے والدین کے پس منظر، مالی حیثیت، اور بچے کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے۔
پاکستان میں چائلڈ ایڈاپشن کا طریقہ کار
پاکستان میں گود لینے کا کوئی مخصوص قانون موجود نہیں ہے، لیکن متبادل طریقہ کار کے ذریعے یہ عمل انجام دیا جا سکتا ہے۔
گود لینے کے عمومی مراحل درج ذیل ہیں:
(1) گود لینے کادستاویز (Adoption Deed): گود لینے والے والدین ماہر قانون / نوٹری پبلک سے رجوع کرکے ایک (گارڈین شپ کی درخواست)/دستاویز تیار کرتے ہیں جس میں دو گواہوں کی موجودگی میں بچے کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ بچے کی معلومات جیسا کہ نام،تاریخ پیدائش، جائے پیدائش، بچے کے حقیقی والدین کا نام پتہ وغیرہ در ج کیئے جاتے ہیں۔
والدین سے بچہ گود لینے کے دستاویزکا سیمپل ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے نیچے دی گئی لنکس پر کلک کریں۔
ٹرسٹ سے بچہ گود لینے کے دستاویزکا سیمپل ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے نیچے دی گئی لنکس پر کلک کریں۔
کسی بھی قسم کے فائل کو جب آپ کلک/ ٹچ کریں گے تو ایک نئی ٹیب اوپن ہوجائیگی جس میں فائل کا پری ویو نظر آئے گا،اورٹائپ رائٹ کارنر پر ایک (Pop-Out) بٹن شو ہوگا جس پر کلک/ٹچ کرنے سے مزید ایک اور ٹیب اوپن ہوگی جہاں پرایرو کے نشان سے آپ فائل ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
گود لینے کا اعلامیہ کا سیمپل ڈاؤن لوڈکرنے کیلئے نیچے بٹن پر کلک کریں۔
(3) سرپرستی سر ٹیفکیٹ /گارڈین شپ سر ٹیفکیٹ:۔ گود لینے والے والدین سول / فیملی کورٹ سے سر پرستی کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرتے ہیں تاکہ فیملی ممبر کے طور پر بچے کی انٹری ممکن ہوسکے۔سر پرستی سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد 30دنوں کے اندر اندر بچے کو نادرا کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ کرنا ہوتا ہے 30دن گزرنے کے بعد جرمانہ ہوسکتا ہے۔ نادرا میں انٹری ہوجانے کے بعد متعلقہ یونین کونسل پانچ دنوں کے اندر اندر بچے کا برتھ سر ٹیفکیٹ جاری کرتا ہے،نادرا(لے پالک بچے کے ریکارڈ)کو سرخ سیاہی سے نشان زد کرتا ہے تاکہ گود لیئے جانے کی حیثیت نمایاں ہوسکے۔
گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ ایپلی کیشن کا سیمپل ڈاؤن لوڈکرنے کیلئے نیچے دی گئی لنک پر کلک کریں۔
(4) نادرا میں اندراج:۔ عدالت سے سرپرستی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد، بچے کا نادرا میں اندراج کروایا جاتا ہے تاکہ اس بچے کو قومی شناختی دستاویزات جیسا کہ سی پی سی (چائلڈ پروٹیکشن سر ٹیفکیٹ)، برتھ سر ٹیفکیٹ، بی فارم یا این آئی سی وغیرہ حاصل ہو سکیں۔
چائلڈ ایڈاپشن کےمختلف فوائد اوردرپیش چیلنجز
فوائد:
1)یتیم اور بے سہارا بچوں کو بہتر زندگی کا موقع ملتا ہے۔2)گود لینے والے والدین کو نہ صرف والدین بننے کا موقع حاصل ہوتا ہے بلکہ خوشی اور روحانی سکون بھی حاصل ہوتا ہے۔3)معاشرے میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔4)چائلڈ ٹریفکنگ اور بھیک مانگنے کے رجحان میں کمی آتی ہے۔
چیلنجز:
1)قانونی پیچیدگیاں اور عدالتی کارروائی وقت طلب ہوتی ہے۔2)اسلامی قوانین کی وجہ سے مکمل ایڈاپشن ممکن نہیں، صرف کفالت کی جا سکتی ہے۔3)سماجی دباؤ اور خاندانی اعتراضات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
4) بائیولوجیکل والدین کی شناخت چھپانے یا نہ چھپانے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔
نتیجہ
پاکستان میں چائلڈ ایڈاپشن کا عمل ایک عظیم اور نیک مقصد ہے جو بے سہارا بچوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ اگرچہ اس عمل میں کئی قانونی اور سماجی پیچیدگیاں موجود ہیں، لیکن مناسب رہنمائی اور قانونی معاونت کے ذریعے یہ عمل کامیابی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ:۔ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ ہم لیگل ڈاکیو منٹس کے متعلق سیمپل کے ساتھ مکمل اور تازہ ترین معلومات آسان الفاظ میں آپ کوپیش کریں،لیکن ملکی قوانین میں باقاعدگی سے ترمیم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے درج بالا معلومات پرانی بھی ہوسکتی ہے لہٰذا پاکستان میں چائلڈ ایڈاپشن کیلئے ماہر قانون/نوٹری پبلک سے رجوع کرنا بہتر ہوگا۔





0 تبصرے